عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیسا بھرا ہوا مِرا دامان نعت ہے
عشقِ نبیؐ مِرا سروسامانِ نعت ہے
سردار نعت گویاں ہے، سلطان نعت ہے
تاریخ میں بس ایک ہی حسانِ نعت یے
موضوع بھی وہی ہے، وہی جان نعت ہے
وہ حاصل کلام ہی عنوانِ نعت ہے
رکھا ہوا جہاں مِرا دیوان نعت ہے
میرا قلم بھی زینتِ جزدانِ نعت ہے
اس کے سوا نہ ذکر کسی کا ہو نعت میں
وہ جانِ کائنات ہی جانانِ نعت ہے
ہر شعر میں بیان ہوئی مِدحتِ رسولؐ
ہر شعر گویا حاصل دیوانِ نعت ہے
ہوتے ہیں قُدسیاں بھی یقیناً وہاں شریک
برپا جہاں بھی محفلِ یارانِ نعت ہے
کانوں میں گُونجتی ہیں صدائیں درودؐ کی
یعنی کہ آج پھر کوئی امکانِ نعت ہے؟
صلِ علیٰؐ کے ورد سے کرتا ہوں ابتدا
صلِ لعلی کا ورد ہی اعلانِ نعت ہے
حاصل یہ مرتبہ ہے اسے نعت کے طفیل
جو نعت گو ہے، جانِ دبستانِ نعت ہے
مِدحت کی برکتوں سے منور ہے رات دن
گھر نعت کہنے والے کا ایوانِ نعت ہے
ہر لحظہ نعت گوئی کے آداب کا خیال
لازم ہے احتیاط، یہ میزانِ بعت ہے
جاری رہے گا سلسلۂ نعتِ مصطفیٰﷺ
اللہ پاک خود ہی نگہبانِ نعت ہے
تفہیم کس کو ہو سکی ان کے مقام کی
انسان کو کہاں ابھی عرفانِ نعت ہے
آقائے نامدارﷺ کا جب سے ہوا کرم
طبع رواں میں اور بھی میلانِ نعت ہے
ہونے لگی جو نعتیہ اشعار کی عطا
کیفیتِ جمال سی دورانِ نعت ہے
آمد کا ایک لا متناہی ہے سلسلہ
اب میں ہوں اور عطائے فراوانِ نعت ہے
نسیم سحر
No comments:
Post a Comment