یاد پردیس میں اس شخص کی کیا آئی ہے
جیسے صحرا میں محبت کی صدا آئی ہے
اپنی قسمت میں سکوں نام کی ریکھا ہی نہ تھی
جو خوشی آئی ہے وہ بن کے سزا آئی ہے
ہائے وہ لمحہ بھی کیا لمحہ تھا جس لمحے میں
لے کے پیغام تیرا بادِ صبا آئی ہے
زندگی ہم نے گزاری ہے، کہاں گزری ہے
کب ثمر بار ہے جو لب پہ دعا آئی ہے
نہ کسی خواب نہ خواہش نے پکارا ہم کو
موسمِ گل میں بھی پت جھڑ کی ہوا آئی ہے
وقت کے اور تقاضے رہے تا عمر آکاش
اپنے حصے میں کوئی اور فضا آئی ہے
راحیل آکاش
No comments:
Post a Comment