Friday, 9 January 2026

یاد پردیس میں اس شخص کی کیا آئی ہے

 یاد پردیس میں اس شخص کی کیا آئی ہے

جیسے صحرا میں محبت کی صدا آئی ہے

اپنی قسمت میں سکوں نام کی ریکھا ہی نہ تھی

جو خوشی آئی ہے وہ بن کے سزا آئی ہے

ہائے وہ لمحہ بھی کیا لمحہ تھا جس لمحے میں

لے کے پیغام تیرا بادِ صبا آئی ہے

زندگی ہم نے گزاری ہے، کہاں گزری ہے

کب ثمر بار ہے جو لب پہ دعا آئی ہے

نہ کسی خواب نہ خواہش نے پکارا ہم کو

موسمِ گل میں بھی پت جھڑ کی ہوا آئی ہے

وقت کے اور تقاضے رہے تا عمر آکاش

اپنے حصے میں کوئی اور فضا آئی ہے


راحیل آکاش

No comments:

Post a Comment