صفحات

Wednesday, 1 July 2026

میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں

 میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں

ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں

اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے

ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں

کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں

چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں

دنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے

 دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے

عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے

شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے

تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے

دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے

جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے