Friday, 3 January 2014

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں، کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے، کچھ ان کا اشارہ ہوتا ہے
کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں، دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر
یا شام غریباں کا جگنو، یا صبح کا تارا ہوتا ہے
ہم دل کو لیے ہر دیس پھرے، اس جنس کے گاہک نہ مل سکے
اے بنجارو، ہم لوگ چلے، ہم کو تو خسارہ ہوتا ہے
دفتر سے اٹھے، کیفے میں گئے، کچھ شعر کہے، کچھ کافی پی
پوچھو جو معاش کا انشاء جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے

ابن انشا

No comments:

Post a Comment