Saturday, 11 January 2014

ہم اگر تشنگی بجھانے لگے

ہم اگر تشنگی بجھانے لگے
یہ جو دریا ہے یہ ٹھکانے لگے
میں نے بس اِک سوال رکھا تھا
لوگ اوقات کیوں دِکھانے لگے
ایک پَل میں تجھے بھلا بیٹھا
ایک پَل میں مجھے زمانے لگے
بعد مدت کے گھر ہوا روشن
اور پھر آگ ہم بجھانے لگے
خود کلامی میں مبتلا تھا میں
پھر یہ پتھر کہاں سے آنے لگے
میں نے رسماً ہی حال پوچھا تھا
آپ رُوداد کیوں سنانے لگے
اتنے خلوت پسند ہم بھی نہیں
ساۓ کیوں ہم سے جی چرانے لگے

عمار اقبال

No comments:

Post a Comment