Saturday, 11 January 2014

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت

دل ڈھونڈتا ہے

دِل ڈُھونڈتا ہے پِھر وہی فُرصت کے رات دن
جاڑوں کی نرم دُھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کِھینچ کر تیرے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
تاروں کو دیکھتے رہیں چَھت پر پڑے ہوئے 
برفِیلے موسموں کی کسی سرد رات میں 
جا کر اُسی پہاڑ کے پہلُو میں بیٹھ کر
وادی میں گُونجتی ہوئی خاموشیاں سُنیں
دِل ڈُھونڈتا ہے پِھر وہی فُرصت کے رات دن

گلزار

No comments:

Post a Comment