Saturday, 3 May 2014

کوئی موسم ہو دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم

 کوئی موسم ہو دل میں ہے تمہاری یاد کا موسم

کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمہارے بعد کا موسم

نہیں تو آزما کے دیکھ لو کیسے بدلتا ہے

تمہارے مسکرانے سے دلِ ناشاد کا موسم

صدا تیشے سے جو نکلے دلِ شیریں سے اُٹھی تھی

چمن خسرو کا تھا مگر رہا فرہاد کا موسم

پرندوں کی زباں بدلی کہیں سے ڈھونڈ لے تو بھی

نئی طرزِ فغاں اِئے دل کہ ہے ایجاد کا موسم

رُتوں کا قاعدہ ہے وقت پہ یہ آتی جاتی ہیں

ہمارے شہر میں رُک گیا فریاد کا موسم

کہیں سے اُس حسیں آواز کی خوشبو پکارے گی

تو اُس کے بعد بدلے گا دلِ برباد کا موسم

قفس کے بام و در میں روشنی سی آتی جاتی ہے

چمن میں آ گیا شاید لبِ آزاد کا موسم

نہ کوئی کام خزاں کا ہے نہ خواہش ہے بہاروں کی

ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم


امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment