سات سُروں کا بہتا دریا تیرے نام
ہر سُر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام
جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم
اور ہوا کا سبز دوپٹہ تیرے نام
ہجر کی شام، اکیلی رات کے خالی در
صبحِ فراق کا زرد اجالا تیرے نام
تیرے بِنا جو عمر بِتائی، بِیت گئی
اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام
ان شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ چُنے
ان کا عکس اور مِرا چہرہ تیرے نام
دکھ کے گہرے نیلے سمندر میں خاورؔ
اس کی آنکھیں ایک جزیرہ، تیرے نام
ہر سُر میں ہے رنگ دھنک کا تیرے نام
جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم
اور ہوا کا سبز دوپٹہ تیرے نام
ہجر کی شام، اکیلی رات کے خالی در
صبحِ فراق کا زرد اجالا تیرے نام
تیرے بِنا جو عمر بِتائی، بِیت گئی
اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام
ان شاعر آنکھوں نے جتنے رنگ چُنے
ان کا عکس اور مِرا چہرہ تیرے نام
دکھ کے گہرے نیلے سمندر میں خاورؔ
اس کی آنکھیں ایک جزیرہ، تیرے نام
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment