Friday, 14 November 2014

نہ جانے کون سے بدلے اتارتی رہی ہے

نہ جانے کون سے بدلے اتارتی رہی ہے
یہ زندگی ہمیں قسطوں میں مارتی رہی ہے
اِدھر اُدھر کی عبث خاک چھانتے پھرے ہیں
جدھر جدھر ہمیں قسمت ہنکارتی رہی ہے
بھٹک رہی ہے خجل خواہشوں کے غاروں میں
وہ جستجو جو ستارے شکارتی رہی ہے
کسے حقیقتِ نیرنگئ جہاں کی خبر
ازل سے وقت کی فطرت بجھارتی رہی ہے
ہمارے سر سے بلائیں کہاں ٹلی ہوتیں
یہ اپنی ماں کہ جو صدقے اتارتی رہی ہے
اک اور بادِ بیاباں، اک اور یادِ غزال
وہ پھونکتی رہی ہے، یہ بہارتی رہی ہے
جہاں میں تھے ہی نہیں جب تو کیا پتہ پاتی
قضا، کہ نام ہمارا پکارتی رہی ہے
اک اپنی رَو کے جلو میں رہے ہیں اس سے ورے
بگاڑتی رہی ہے، یا سنوارتی رہی ہے
کہاں کسی سے کبھی رازِ دل کہا عالیؔ
یہ شاعری کہ ہمیں اشتہارتی رہی ہے

جلیل عالی

No comments:

Post a Comment