نبھائی وضعِ بسمل انتہا تک
نہ مانگا قاتلوں سے خوں بہا تک
نہ جانے کیا ہوا زندانیوں کو
کہ بے آواز ہے زنجیرِ پا تک
اڑا کر لے گئیں ان موسموں میں
وفا کے نام پر کچھ شعبدہ گر
چرا لیتے ہیں ہاتھوں کی حنا تک
فرازؔ آنکھیں گنوائیں، عمر کھوئی
کہا تھا کس نے اس کا راستہ تک
احمد فراز
No comments:
Post a Comment