Saturday, 15 November 2014

آسماں کی چھت کہاں ہے

آسماں کی چھت کہاں ہے
(وَجَعَلْنَا السَّمَاء سَقْفاً مَّحْفُوظاً: سورۃ الأنبياء (۳۲

اپنے گھر کے صحن میں یوں ششدر و حیراں کھڑا ہوں
جیسے رستہ کھو گیا ہو
 دھیرے دھیرے پاؤں میرے
 صحن کے کیچڑ میں دھنستے جا رہے ہیں
 جسم کے کیچڑ میں دھنسنے کا تصور
 روح فرسا تو ہے، لیکن
 اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں ہے

 سر کھجاتا، نیچے اوپر، دائیں بائیں دیکھتا ہوں
 دائیں بائیں کچھ نہیں ہے
 نیچے کیچڑ ہے، زمیں ہے
 اور اوپر؟
 ایک لمحے کے لیے یہ یاد آتا ہے کہ شاید میرے اوپر
 انت سے بے انت، یعنی اِس اُفق سے اُس اُفق تک
 آسماں پر
 چارپائیاں سلسلہ در سلسلہ رکھی ہوئی ہیں
 جن پہ میرے پچھلے جنموں کی تکانیں سو رہی ہیں
بدحواسی میں زمیں سے پوچھتا ہوں
 آسماں کی چھت کبھی گرتی نہیں ہے
 پر مجھے اتنا بتاؤ
 آسماں کی چھت کہاں ہے؟

ستیہ پال آنند

No comments:

Post a Comment