ہونٹ ہیروں سے نہ چہرہ ہے ستارے کی مثال
پھر بھی لاوے تُو کوئی دوست ہمارے کی مثال
مجھ سے کیا ڈوبنے والوں کا پتہ پوچھتے ہو
میں سمندر کا حوالہ، نہ کنارے کی مثال
زندگی اوڑھ کے بیٹھی تھی رِدائے غم
عاشقی کو بھی ہوس پیشہ تجارت جانیں
وصل ہے منافع تو ہجراں ہے خسارے کی مثال
ہم کبھی ٹوٹ کہ روئے نہ کبھی کھل کے ہنسے
رات شبنم کی طرح صبح ستارے کی مثال
ناسپاہی کی بھی حد ہے جو یہ کہتے ہو فرازؔ
زندگی ہم نے گزاری ہے گزارے کی مثال
احمد فراز
No comments:
Post a Comment