اب اسے عیب سمجھ لیجیے، خوبی کہیے
پھر وہ مٹی نہیں رہتی جسے مٹی کہیے
کس کو ٹھہرائیے ٹوٹی ہوئی چیزوں کا امیں
اپنی لکنت کا سبب کس کی زبانی کہیے
گفتگو سے نکل آتے ہیں ہزاروں رستے
ذرا دیوار کی سنیے، ذرا اپنی کہیے
خود سے جو بات بھی کرتے ہیں، خدا سنتا ہے
خود کلامی کہاں ممکن ہے، کلیمی کہیے
ایسی ویرانی ہے مجھ میں کہ فنا لگتی ہے
ہو کوئی چیز تو ایسی جسے ہستی کہیے
کون سنتا ہے یہاں، کون سنا سکتا ہے
شور اس شہر میں ایسا ہے کہ کچھ بھی کہیے
پھر وہ مٹی نہیں رہتی جسے مٹی کہیے
کس کو ٹھہرائیے ٹوٹی ہوئی چیزوں کا امیں
اپنی لکنت کا سبب کس کی زبانی کہیے
گفتگو سے نکل آتے ہیں ہزاروں رستے
ذرا دیوار کی سنیے، ذرا اپنی کہیے
خود سے جو بات بھی کرتے ہیں، خدا سنتا ہے
خود کلامی کہاں ممکن ہے، کلیمی کہیے
ایسی ویرانی ہے مجھ میں کہ فنا لگتی ہے
ہو کوئی چیز تو ایسی جسے ہستی کہیے
کون سنتا ہے یہاں، کون سنا سکتا ہے
شور اس شہر میں ایسا ہے کہ کچھ بھی کہیے
ذوالفقار عادل
No comments:
Post a Comment