Friday, 14 November 2014

سفر میں یاد نہ آئے کوئی ٹھکانہ ہمیں

سفر میں یاد نہ آئے کوئی ٹھکانہ ہمیں 
غمِ زمانہ، لگا ایسا تازیانہ ہمیں 
امیرِ شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پر کِیا روانہ ہمیں 
ہر ایک سمت کھڑی ہیں بلند دیواریں 
تمام شہر نظر آئے قید خانہ ہمیں 
سلوکِ ہم نفساں دیکھ کر یہ دھیان آیا
کہ کاش پھر ملے دشمن وہی پرانا ہمیں 
ہواۓ صبحِ دلآزار! اتنی تیز نہ چل
چراغِ شامِ غریباں ہیں ہم، بجھا نہ ہمیں 
نگاہ پڑتی ہے پھر کیوں پرائی شمعوں پر
اگر عزیز ہے محسنؔ! چراغِ خانہ ہمیں  

محسن احسان 

No comments:

Post a Comment