دینہ
میں واہگہ سے چلا تھا
زمینوں پر کھچے خانوں میں
سٹاپو‘‘ کھیلتا اور پار کرتا’’
دُھویں کی گاڑی میں ’’جہلم‘‘ کا پُل گزرا
میں ’’کالووال‘‘ سے ’’منگلا‘‘ کے پیچھے کی طرف نکلا
وہاں پیدا ہوا تھا میں
٭
میں گلیاں کھوجتا، نالی میں کنچے ڈھونڈتا
لہراتا تختی، اور گلے میں جُھولتا بستہ لیے
ٹھہرا تھا تھوڑی دیر
کُک کُک کرتی چکی پر
وہاں مجمع لگا تھا
اور اک ہلّڑ تھا لوگوں کا
کہ دو مہندی لگے دُنبوں نے سینگ اپنے جکڑ رکھے
تھے آپس میں
کسی کا سینگ ٹوٹے گا
میں ڈر کے بھیڑ کی ٹانگوں کے نیچے سے نکل آیا
٭
پکی نیمولیوں سے جیبیں اپنی بھر رہا تھا جب
اچانک پیڑ پر کھوئی ہوئی گِلّی
زمیں پر مل گئی مجھ کو
گلہری نے چھپائی تھی
٭
گلی کا موڑ مڑتے ہی مرا گھر تھا
بہت ڈر ڈر کے دروازے پہ دستک دی
کسی بوڑھے نے زنگ آلود دروازہ دھکیلا
بڑی حسرت سے دیکھا مجھ کو بوڑھے نے
مرا ہم شکل لگتا تھا
میں بستہ رکھ کے لوٹ آیا
میں پھر آؤں گا‘‘، یہ کہہ کر، کہ’’
دُنبوں کی لڑائی دیکھنے جاتا ہوں’’
‘‘میں پچھلی گلی میں ہوں
گلزار
No comments:
Post a Comment