Friday, 7 November 2014

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے

وہاں تو ہار قیامت بھی مان جاتی ہے
جہاں تلک تِرے قد کی اُٹھان جاتی ہے
یہ عہدِ سنگ زنی ہے سو چپ ہیں آئینہ گر
کہ لب کشا ہوں تو سمجھو دکان جاتی ہے
یہ مہربان مشیّت بھی ایک ماں کی طرح
میں ضد کروں تو مِری بات مان جاتی ہے
سو کیا کریں یہاں بسمل کہ بات قاتل کی
کوئی نہ مانے عدالت تو مان جاتی ہے
میں کس طرح سے گزاروں گا عمر بھر کا فراق
وہ دو گھڑی بھی جدا ہو تو جان جاتی ہے
یہ نامراد محبت بھی قاتلوں کی طرح
ضرور چھوڑ کے کوئی نشان جاتی ہے
فرازؔ اجڑنے لگا ہے چمن محبت کا
جو رُت ہمیشہ رہی مہربان، جاتی ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment