Tuesday, 11 November 2014

سمندر سارے شراب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

سمندر سارے شراب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے
گناہ نہ ہوتے ثواب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے
کسی کے دل میں کیا چھپا ہے یہ تو رب ہی جانتا ہے
دل اگر بے نقاب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے
تھی خاموشی ہماری فطرت جو چند برسوں بھی نبھ گئی ہے
جو ہمارے منہ میں جواب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے
ان کی نظریں نہ جان پائیں اچھائیاں ہماری محسنؔ
ہم جو سچ میں خراب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

محسن نقوی

1 comment: