Thursday, 6 November 2014

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

یہ مصرع کاش نقشِ ہر در و دیوار ہو جائے
جسے جینا ہو، مرنے کے لئے تیار ہو جائے
وہی میخوار ہے، جو اس طرح میخوار ہو جائے
کہ شیشہ توڑ دے اور بے پئے سرشار ہو جائے
دلِ انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے
لبِ خاموشِ فطرت ہی لبِ گفتار ہو جائے
ہر اک بے کار سی ہستی بہ روئے کار ہو جائے
جنوں کی رُوحِ خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اُسے بے پردہ دیکھے گی
مجھے ڈر ہے، نہ توہین جمالِ یار ہو جائے
حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو
کہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے
معاذ اللہ، اس کی وارداتِ غم، معاذ اللہ
چمن جس کا وطن ہو، اور چمن بیزار ہو جائے
یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی
کہ انساں عالمِ انسانیت پر بار ہو جائے
اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے
نظر تلوار بن جائے، نفس جھنکار ہو جائے
یہ روز و شب، یہ صبح و شام ، یہ بستی، یہ ویرانہ
سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے

جگر مراد آبادی

No comments:

Post a Comment