Friday, 14 November 2014

ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا

ہجر جب طے ہے تو بیکار نہ حجت کرنا
جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا
وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام
ایک بار اور زرا ان کی وضاحت کرنا
سب کے ہاتھوں میں یہ اعجازِ مسیحائی کہاں
ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا

ہے یہ وہ راہ کہ جس راہ پہ بس چل پڑئیے
عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت کرنا
اے مرے دل، میں ترے حال سے واقف ہوں، مگر
چند سانسوں کا سفر اور ہے، ہمت کرنا
جان دینے میں تأمل نہیں اے عشق، مگر
اتنا دیرینہ تعلق ہے، رعایت کرنا
چلنا پڑتا ہے کسی نقشِ قدم کے پیچھے
اتنا آسان نہیں پاسِ رفاقت کرنا
یہی ہونا تھا مرے دل، جو ترے ساتھ ہوا
کتنا روکا تھا کہ سب سے نہ مروت کرنا
درد اٹھتا بھی رہے، آنکھ سے چھلکے بھی نہیں
سیکھتے سیکھتے آتا ہے شکایت کرنا
دل سے اس دشتِ جنوں خیز میں کون آتا ہے
پھر بھی کمزور فصیلیں ہیں، حفاظت کرنا
ہم کو آدابِ محبت نہیں آتے سیماؔ
ہم کو بس ٹوٹ کے آتا ہے محبت کرنا

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment