Tuesday, 11 November 2014

گیسوئے شام میں ایک ستارہ ایک خیال

گیسوئے شام میں ایک ستارہ ایک خیال
دل میں لئے پھرتے ہیں تمہارا ایک خیال
بامِ فلک پر سورج، چاند، ستارے تھے
ہم نے بیاضِ دل پہ اتارا ایک خیال
کبھی تو ان کو بھی دیکھو، جن لوگوں نے
عمر گنوائی، اور سنوارا ایک خیال
یوں بھی ہوا ہے، دل کے مقابل دنیا تھی
پھر بھی نہ ہارا، پھر بھی نہ ہارا، ایک خیال
ایک مسافت، ایک اداسی، ایک فرازؔ
ایک تمنا، ایک شرارہ، ایک خیال

احمد فراز

No comments:

Post a Comment