کوئی احسان چشمِ یار پر نئیں
ہم اس کے ہیں مگر اس کو خبر نئیں
عجب نشہ ہے مستانہ روی میں
خیالِ منزل و زادِ سفر نئیں
محبت اپنا اپنا تجربہ ہے
بہت سے خوبصورت لوگ دیکھے
مگر ایسا ہے تجھ کو دیکھ کر نئیں
فرازؔ اس کی گلی سے پھر نہ آیا
وہ دیوانہ سہی، پر دربدر نئیں
احمد فراز
No comments:
Post a Comment