آ گئی پھر سے طبیعت مِری جولانی پر
ہے یہ وہ نقش کہ جو تیرتا ہے پانی پر
رات اک خواب نظر آیا تو معلوم ہوا
کئی در کھول دئیے جاتے ہیں زندانی پر
ایک ٹوٹا ہوا تارا بھی نہیں ہاتھ آیا
رات مامور تھی جنگل کی نِگہ بانی پر
میں بھی آئینہ ہوں دیکھے کئی چہرے میں نے
آپ حیران تو ہوں گے مِری حیرانی پر
مدتوں بعد مِلے ہیں تو یہ جی چاہتا ہے
کچھ کہیں آپ بھی لمحوں کی سبک رانی پر
شہر میں چاند بھی اکثر نہیں دیکھا جاتا
گفتگو ہوتی ہے تاروں کی فراوانی پر
پھر بھی یہ حال کہ شَل ہونے لگے ہیں بازو
دل کا دریا ابھی آیا نہیں طغیانی پر
مجھے تشویش کہ کیسے تو اٹھائے گا یہ بوجھ
اور تُو شاد مِری بے سر و سامانی پر
اسی سجدے میں نظر آتے ہیں عالم کیا کیا
یہی سجدے کا نشاں داغ ہے پیشانی پر
مِرے اشکوں نے جلا دیں مِری آنکھیں شہزاد
میں نے اس آگ کو کیوں ڈال دیا، پانی پر
شہزاد احمد
ہے یہ وہ نقش کہ جو تیرتا ہے پانی پر
رات اک خواب نظر آیا تو معلوم ہوا
کئی در کھول دئیے جاتے ہیں زندانی پر
ایک ٹوٹا ہوا تارا بھی نہیں ہاتھ آیا
رات مامور تھی جنگل کی نِگہ بانی پر
میں بھی آئینہ ہوں دیکھے کئی چہرے میں نے
آپ حیران تو ہوں گے مِری حیرانی پر
مدتوں بعد مِلے ہیں تو یہ جی چاہتا ہے
کچھ کہیں آپ بھی لمحوں کی سبک رانی پر
شہر میں چاند بھی اکثر نہیں دیکھا جاتا
گفتگو ہوتی ہے تاروں کی فراوانی پر
پھر بھی یہ حال کہ شَل ہونے لگے ہیں بازو
دل کا دریا ابھی آیا نہیں طغیانی پر
مجھے تشویش کہ کیسے تو اٹھائے گا یہ بوجھ
اور تُو شاد مِری بے سر و سامانی پر
اسی سجدے میں نظر آتے ہیں عالم کیا کیا
یہی سجدے کا نشاں داغ ہے پیشانی پر
مِرے اشکوں نے جلا دیں مِری آنکھیں شہزاد
میں نے اس آگ کو کیوں ڈال دیا، پانی پر
شہزاد احمد
No comments:
Post a Comment