Tuesday, 4 November 2014

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں
اڑ کے اک روز بڑی دور چلی جاتی ہیں
گھر کی شاخوں پہ یہ چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
سہمی سہمی ہوئی رہتی ہیں مکانِ دل میں
آرزوئیں بھی غریبوں کی طرح ہوتی ہیں
ٹوٹ کر یہ بھی بکھر جاتی ہیں ایک لمحے میں
کچھ امیدیں بھی گھروندوں کی طرح ہوتی ہیں
آپ کو دیکھ کے جس وقت پلٹتی ہے نظر
میری آنکھیں، مری آنکھوں کی طرح ہوتی ہیں
باپ کا رتبہ بھی کچھ کم نہیں ہوتا، لیکن
جتنی مائیں ہیں فرشتوں کی طرح ہوتی ہیں

منور رانا 

No comments:

Post a Comment