Sunday, 16 November 2014

بجھ گیا دل حیات باقی ہے

بجھ گیا دل حیات باقی ہے
چُھپ گیا چاند رات باقی ہے
حالِ دل ان سے کہہ چکے سو بار
اب بھی کہنے کی بات باقی ہے
اے خوشا! ختم اجتناب، مگر
محشرِ التفات باقی ہے
عشق میں ہم سمجھ چکے سب کچھ
ایک ظالم حیات باقی ہے
ناصحانِ کرام کے دَم سے
شورشِ کائنات باقی ہے
رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے
کٹ گئی عمر، رات باقی ہے
رحمتِ بے پناہ کے صدقے
اعتمادِ نجات باقی ہے
نہ وہ دل ہے نہ وہ شباب خمار
کس لیے اب حیات باقی ہے

خمار بارہ بنکوی

No comments:

Post a Comment