Wednesday, 7 October 2015

برائے فروخت

برائے فروخت

روح چاہیے تم کو
یا بدن خریدو گے
موت سب سے سستی ہے

٭٭٭٭
سامنے کے شیلفوں میں
رنگ رنگ آنکھیں ہیں
ساتھ نیند رکھی ہے
خواب اس طرف کو ہیں
٭٭٭٭
سب سے آخری صف میں
حسن کی کتابیں ہیں
خیر کے فسانے ہیں
٭٭٭٭
فرسٹ فلور پر سائنس
میگزین فیشن کے
اور علمِ دولت ہے
آج کی ضرورت ہے
سب سے بیش قیمت ہے
٭٭٭٭
فرش پر جو رکھا ہے
دِین ہے، تصوّف ہے
فلسفہ ہے، منطق ہے
باعثِ تپِ دق ہے
٭٭٭٭
ڈسک کاؤنٹر کے پاس
شیش داں میں رکھی ہیں
جیسے قیمتی چیزیں
آسماں میں رکھی ہیں
٭٭٭٭
آسمان والا بھی
کیا یہاں پہ ملتا ہے
کیسے بھاؤ بکتا ہے
پہلے خوب چلتا تھا
لوگ لینے آتے تھے
اب خدا نہیں بکتا
٭٭٭٭
جانے کس زمانے سے
اس زماں میں آئے ہو
یہ جہاں نہیں صاحب
تم دکاں میں آئے ہو

دانیال طریر

No comments:

Post a Comment