Friday, 13 November 2015

ہر ایک سنگ میں پوشیدہ ایک آزر ہے

ہر ایک سنگ میں پوشیدہ ایک آزر ہے
ہماری آگ میں پیغمبری کا جوہر ہے
جمالِ یار کی دولت جسے میسر ہے
ہے سچ تو یہ کہ وہی آئینہ سکندر ہے
کھُلی ہواؤں سے آنکھیں مِلا نہیں سکتا
جسے خود اپنے بدن کی شکست کا ڈر ہے
میں اپنے جذبے کی سچائیوں میں بہتا ہوں
کہ جیسے نوحؑ کا طوفان میں اندر ہے
سوار تیر کماں لے کے اب بھی جاتے ہیں
کہ جیسے ذہنوں میں اب تک تِرا سوئمبر ہے

فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment