ہر ایک سنگ میں پوشیدہ ایک آزر ہے
ہماری آگ میں پیغمبری کا جوہر ہے
جمالِ یار کی دولت جسے میسر ہے
ہے سچ تو یہ کہ وہی آئینہ سکندر ہے
کھُلی ہواؤں سے آنکھیں مِلا نہیں سکتا
میں اپنے جذبے کی سچائیوں میں بہتا ہوں
کہ جیسے نوحؑ کا طوفان میں اندر ہے
سوار تیر کماں لے کے اب بھی جاتے ہیں
کہ جیسے ذہنوں میں اب تک تِرا سوئمبر ہے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment