اے خدا صبر دے مجھ کو، نہ شکیبائی دے
زخم وہ دے جو مِری روح کو گہرائی دے
خلقتِ شہر یونہی خوش ہے تو پھر یونہی سہی
ان کو پتھر دے، مجھے ظرفِ پزیرائی دے
جو نگاہوں میں ہے کچھ اس سے سوا بھی دیکھوں
تہمتِ عشق تو اس شہر میں کیا دے گا کوئی
کوئی اتنا بھی نہیں طعنہٴ رسوائی دے
جو تِرے دل میں ہے اس بات سے منکر تو نہ ہو
حرف مشکل ہے تو آںکھوں کو ہی گویائی دے
بارِ دنیا نہ سہی، بارِ صداقت اٹھ جائے
ناتواں جسم کو اتنی تو توانائی دے
مجھ کو اس شہر کی درماندہ خرامی سے الگ
پھر مِرے خواب دے اور پھر مِری تنہائی دے
رضی اختر شوق
No comments:
Post a Comment