ہم ان کے نقشِ قدم ہی کو جادہ کرتے رہے
جو گم رہی کا ہمیشہ اعادہ کرتے رہے
کئی ثواب تو نسیاں میں ہو گئے ہم سے
گناہ کتنے ہی ہم بے ارادہ کرتے رہے
نہ صرف اہلِ خِرد ہی کا ہم پہ احساں ہے
کبھی شقاوتِ حالات کا گِلہ نہ کِیا
ہر ایک تیر پہ ہم دل کُشادہ کرتے رہے
ہُوا ہے ایسا کہ فارغؔ ارادتاً بھی کبھی
ہم اپنی راہ میں کانٹے زیادہ کرتے رہے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment