Sunday, 15 November 2015

یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے

یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے
خلوص چاہا تو پتھر جواب میں آئے
خوشا وہ شوق کے در در لیے پھرا مجھ کو
زہے نصیب، کے تم انتخاب میں آئے
ہزار ضبط کروں لاکھ دل کو بہلاؤں
مگر وہ شکل جو ہر روز خواب میں آئے
میں کیا کہوں کہ تِرا ذکر غیر سے سن کر
جو وسوسے دلِ خانہ خراب میں آئے
وہیں قبیلۂ مردہ ضمیر لکھ دینا
ہمارا ذکر جہاں بھی کتاب میں آئے
ریا کے دور میں سچ بول تو رہے ہو مگر
یہ وصف ہی نہ کہیں احتساب میں آئے
میں اپنے دیس کی مٹی سے پیار کرتا ہوں
یہ جرم بھی مِری فردِ حساب میں آئے

مرتضیٰ برلاس

No comments:

Post a Comment