ظلمت کا پھول مے کے اجالے میں آ گرا
ہستی کا راز میرے پیالے میں آ گرا
مہتاب کا تو ذکر ہی کیا جب جلن ہوئی
سورج بھی زلفِ یار کے ہالے میں آ گرا
لوٹی ہے عقل سُوئے جنوں اس امنگ سے
ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدمؔ
جیسے چکور چاند کے ہالے میں آ گرا
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment