Monday, 4 January 2016

ظلمت کا پھول مے کے اجالے میں آ گرا

ظلمت کا پھول مے کے اجالے میں آ گرا
ہستی کا راز میرے پیالے میں آ گرا
مہتاب کا تو ذکر ہی کیا جب جلن ہوئی
سورج بھی زلفِ یار کے ہالے میں آ گرا
لوٹی ہے عقل سُوئے جنوں اس امنگ سے
جیسے گناہگار شوالے میں آ گرا
ایسے گرا ہے آ کے خرابات میں عدمؔ
جیسے چکور چاند کے ہالے میں آ گرا

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment