راتیں شور مچاتی ہیں
جانے کسے بلاتی ہیں
کیا کوئی رستہ بھول گیا
گلیاں خاک اڑاتی ہیں
مٹی کی سب تحریریں
بادل برسے جاتا ہے
بیلیں سوکھتی جاتی ہیں
آپ ہی آپ اندھیروں میں
تصویریں بن جاتی ہیں
سدا سمندر آنکھوں میں
یادیں پیاس بڑھاتی ہیں
افتخار عارف
No comments:
Post a Comment