Friday, 1 April 2016

پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھی

پھول تھے بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھی
دل میں لیکن اور ہی اِک شکل کی حسرت بھی تھی
جو ہوا میں گھر بنائے،۔ کاش کوئی دیکھتا
دشت میں رہتے تھے پر تعمیر کی عادت بھی تھی
کہہ گیا میں سامنے اس کے جو دل کا مُدعا
کچھ تو موسم بھی عجب تھا کچھ مِری ہمت بھی تھی
اجنبی شہروں میں رہتے عمر ساری کٹ گئی
گو ذرا سے فاصلے پر گھر کی ہر راحت بھی تھی
کیا قیامت ہے منیرؔ اب یاد بھی آتے نہیں
وہ پرانے آشنا جن سے ہمیں الفت بھی تھی

منیر نیازی

No comments:

Post a Comment