ابر سے ہاتھ چھڑایا نہ گیا
دھوپ نکلی بھی تو سایا نہ گیا
میں محبت کے لیے کافی ہوں
یہ مگر اُس کو بتایا نہ گیا
خوب رویا میں لپٹ کر خود سے
رات وہ آگ لگی جنگل میں
ایک بھی پیڑ بچایا نہ گیا
میں اکیلا ہی گیا غم کی طرف
کوئی اِس دشت میں آیا نہ گیا
تیری تصویر مکمل نہ ہوئی
کون سا نقش بنایا نہ گیا
رمزی آثم
No comments:
Post a Comment