Saturday, 2 April 2016

کیسے لے جائیں کسی کو عشق کی گہرائی تک

کیسے لے جائیں کسی کو عشق کی گہرائی تک
سوز سے اپنے جلا لیتی ہے لب شہنائی تک
عشق کی لو آ گئی ہے روح کی گہرائی تک
کاش یہ شعلہ نہ پہنچے دامنِ رسوائی تک
لمحہ لمحہ اس کے آنے کا گماں ہوتا رہا
آہٹیں آتی رہیں دہلیز سے انگنائی تک
اک زمانہ تھا دھنک بکھری تھی میرے آس پاس
خون کے آنسو رلاتی ہے اب پروائی تک
اس طرح احساس نے میناؔ کِیا جذبوں کا قتل
محفلیں خود گھٹتے گھٹتے آ گئیں تنہائی تک

مینا نقوی

No comments:

Post a Comment