Wednesday, 6 April 2016

آپ تک ہے نہ غم جہاں تک

آپ تک ہے نہ غم جہاں تک
جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے
اشکِ شبنم ہوں یا تبسمِ گل
ابھی ہر راز گلستاں تک ہے 
ان کی پرواز کا ہے شور بہت
گرچہ اپنے ہی آشیاں تک ہے
پھول ہیں اس کے باغ ہے اس کا
دسترس جس کی باغباں تک ہے
پوچھتے ہیں وہ حالِ دل باقیؔ
یہ بھی گویا مِرے بیاں تک ہے

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment