پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں
روشن ہے بزمِ شعلہ رخاں دیکھتے چلیں
رستے میں ایک گھر ہے جہاں منتظر ہیں لوگ
آئیں گے بار بار کہاں،۔ دیکھتے چلیں
موسم کئی طرح کے گزارے ہیں دوستو
یہ کون سی جگہ ہے جہاں آس پاس بھی
آہٹ کوئی، نہ آہ و فغاں دیکھتے چلیں
پتھر کے دھڑ لیے ہوئے پھرتے ہیں سارے لوگ
آگے ہے ایک شہرِ گماں دیکھتے چلیں
شاید یہیں کہیں پہ جلائی تھیں کشتیاں
کیا اب بھی اٹھ رہا ہے دھواں دیکھتے چلیں
اب کے سفر میں ہم نے سبھی کچھ لٹا دیا
کہتے ہیں کیا یہ دیدہ وراں، دیکھتے چلیں
آشفتہ چنگیزی
No comments:
Post a Comment