Sunday, 3 April 2016

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے

مجھ میں خوشبو بسی اُسی کی ہے
جیسے یہ زندگی اسی کی ہے
وہ کہیں آس پاس ہے موجود
ہو بہو یہ ہنسی اسی کی ہے
خود میں اپنا دُکھا رہا ہوں دل
اِس میں لیکن خوشی اسی کی ہے
یعنی کوئی کمی نہیں مجھ میں
یعنی مجھ میں کمی اسی کی ہے
کیا مِرے خواب بھی نہیں میرے
کیا مِری نیند بھی اسی کی ہے

رمزی آثم

No comments:

Post a Comment