Wednesday, 6 April 2016

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کِیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو 
کچھ نہ ہو گا گِلہ بھی کرنے سے
ظالموں سے گلہ کِیا نہ کرو
ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیر
یار سب کو بنا لیا نہ کرو

منیر نیازی

No comments:

Post a Comment