اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کِیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
کچھ نہ ہو گا گِلہ بھی کرنے سے
ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیر
یار سب کو بنا لیا نہ کرو
منیر نیازی
No comments:
Post a Comment