Friday, 7 October 2016

ملے ہیں سائباں ان کو عطا کے رستے میں

ملے ہیں سائباں ان کو عطا کے رستے میں
نکل پڑے جو گھروں سے خدا کے رستے میں
ہر ایک گام پہ ثابت قدم رہے جبکہ
ہزاروں مشکلیں آئیں وفا کے رستے میں 
یہ اور بات کہ غربت میں زندگی گزری 
رکاوٹ آنے نہیں دی انا کے رستے میں
ستمگری کیا مجھے موت سے ڈرائے گی
میں گامزن ہوں ازل سے فنا کے رستے میں
وفا، خلوص و محبت کی دولتیں ساری
ہم آ گئے ہیں کسی پر لٹا کے رستے میں
اٹھا کے رستے سے جس کو گلے لگایا تھا
اسی نے چھوڑا ہمیں آج لا کے رستے میں
وہ تیس مار خاں خود کو سمجھنے لگتا ہے
لہو ہمارے بدن کا بہا کے رستے میں
امیرِ شہر نے آخر اجالا کر ہی لیا
کسی غریب کے گھر کو جلا کے رستے میں
چلائیں خوب جفاؤں کی آندھیاں تم نے
"چراغ ہم نے جلائے وفا کے رستے میں"
کبھی غلام رہیں سر بلندیاں جن کی 
کھڑے ہیں آج وہی سر جھکا کے رستے میں
خمارؔ جن کو تکبّر تھا اپنے ہونے پر
وہ غرق ہو گئے تحت السرا کے رستے میں

خمار دہلوی 

No comments:

Post a Comment