ملے ہیں سائباں ان کو عطا کے رستے میں
نکل پڑے جو گھروں سے خدا کے رستے میں
ہر ایک گام پہ ثابت قدم رہے جبکہ
ہزاروں مشکلیں آئیں وفا کے رستے میں
یہ اور بات کہ غربت میں زندگی گزری
ستمگری کیا مجھے موت سے ڈرائے گی
میں گامزن ہوں ازل سے فنا کے رستے میں
وفا، خلوص و محبت کی دولتیں ساری
ہم آ گئے ہیں کسی پر لٹا کے رستے میں
اٹھا کے رستے سے جس کو گلے لگایا تھا
اسی نے چھوڑا ہمیں آج لا کے رستے میں
وہ تیس مار خاں خود کو سمجھنے لگتا ہے
لہو ہمارے بدن کا بہا کے رستے میں
امیرِ شہر نے آخر اجالا کر ہی لیا
کسی غریب کے گھر کو جلا کے رستے میں
چلائیں خوب جفاؤں کی آندھیاں تم نے
"چراغ ہم نے جلائے وفا کے رستے میں"
کبھی غلام رہیں سر بلندیاں جن کی
کھڑے ہیں آج وہی سر جھکا کے رستے میں
خمارؔ جن کو تکبّر تھا اپنے ہونے پر
وہ غرق ہو گئے تحت السرا کے رستے میں
خمار دہلوی
No comments:
Post a Comment