Tuesday, 4 October 2016

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر
تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے
جو دن میں پھرا کرتے ہیں بیدار و خبردار
وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے
ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل
رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے
اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام
اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے
ناکامی کی صورت میں ملے طعنۂ نایافت
اب کام مِرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے
شب اہلِ ہوس ایسے پریشان تھے باصر
جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے

باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment