Tuesday, 4 October 2016

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے
دور تک بکھری ہوئی آواز ہے
خامشی اس کی ہے مثلِ گفتگو
ہر نظر جذبات کی غماز ہے
کس طرح زندہ ہوں تجھ کو دیکھ کر
زندگی مجھ پر تبسم ساز ہے
جاں فزا نغمات کا خالق ہے یہ
دل اگرچہ اک شکستہ ساز ہے
اس طرح قائم ہے رقصِ زندگی
ساز اس کا ہے، مِری آواز ہے
اس لیے رکھتا ہوں میں اس کو عزیز
حق پرستی روح کی آواز ہے
منزلِ مقصود تک پہنچے کی عرشؔ
رک نہ پائے گی، مِری آواز ہے

عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment