ذرا زور سے بولو؛ کلمہٴ شہادت
ہمارے ماتھوں پر سجدے
عقل پر مہریں
آنکھوں میں خون
زبان پر تضاد
نیفے میں وَٹوانی
جیبوں میں ریال، دینار اور ڈالر
اور ہاتھوں میں موت ہے
عقل پر مہریں
آنکھوں میں خون
زبان پر تضاد
نیفے میں وَٹوانی
جیبوں میں ریال، دینار اور ڈالر
اور ہاتھوں میں موت ہے
(جو ہم بِن مانگے بانٹتے ہیں)
ہم چاہتے کیا ہیں؟
یہ ہم بھی نہیں جانتے
ہمارا قبلہ کدھر ہے؟
ہمیں اس کی بھی خبر نہیں
ہمیں صرف اپنے فرائض کا پتہ ہے
جو ہمیں سونپے گئے ہیں
ہمارا ایک فرض ہے کلمۂ شہادت پڑھوانا
اور دوسرا
اپنے بچوں کی دنیا، اور
اوروں کے بچوں کی آخرت سنوارنا
(کلمۂ شہادت)
فرض تو آخر فرض ہے نا
ہمارا قبلہ کدھر ہے؟
ہمیں اس کی بھی خبر نہیں
ہمیں صرف اپنے فرائض کا پتہ ہے
جو ہمیں سونپے گئے ہیں
ہمارا ایک فرض ہے کلمۂ شہادت پڑھوانا
اور دوسرا
اپنے بچوں کی دنیا، اور
اوروں کے بچوں کی آخرت سنوارنا
(کلمۂ شہادت)
فرض تو آخر فرض ہے نا
ظہیر پراچہ
No comments:
Post a Comment