Friday, 7 October 2016

قلم سے سر قلم تک

قلم سے سر قلم تک

کہتی تھی قلم سے سر کرے گی
جھلی کہیں کی
اسے کیا پتہ سر قلم کرنا کہیں آسان ہے
قلم کو سر کرنے سے

ظہیر پراچہ

No comments:

Post a Comment