Sunday, 9 October 2016

نغمۂ عشق بتاں اور ذرا آہستہ

نغمۂ عشقِ بتاں اور ذرا آہستہ
ذکرِ نازک بدناں اور ذرا آہستہ
میرے محبوب کی یادوں کے بھڑکتے ہیں چراغ
اے نسیمِ گزراں اور ذرا آہستہ
جس طرف سے وہ گزرتے ہیں صدا آتی ہے
اے قرارِ دل و جاں اور ذرا آہستہ
دل ہر اک گام پہ لوگوں نے بچھا رکھے ہیں
اور اے سروِ رواں اور ذرا آہستہ
کوچۂ دوست میں آہستہ روی کے با وصف
دل یہ کہتا ہے یاں اور ذرا آہستہ
باندھ کر عہدِ وفا کوئی گیا ہے مجھ سے
اے میری عمرِرواں اور ذرا آہستہ
کم عبادت سے نہیں ذکر بتوں کا بھی عزیز
بارے توصیفِ بتاں اور ذرا آہستہ

ادیب سہارنپوری

No comments:

Post a Comment