صحرا و دشت و بحر کی زنجیر کھول دے
پردے اٹھا، جہان کی تصویر کھول دے
سوچا ہے ایک عمر تجھے خواب خواب میں
مجھ پر اب ایک لمحۂ تعبیر کھول دے
یا تو نیا شعور عطا کر اس آنکھ کو
یا تو اب اس جہان کی ترتیب کو بدل
یا دل پہ کائنات کی تعمیر کھول دے
کاش اب کے اضطراب کو وہ انتہا ملے
جو انتہاۓ غیب کی تصویر کھول دے
ممکن ہے یہ سراب، یہ حیرت بھری نگاہ
صحرا نورد پر کوئی تحریر کھول دے
عارف فرہاد
No comments:
Post a Comment