Wednesday, 2 November 2016

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
کہ اس کا بھی مِری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا
کوئی ورق دکھا جو اشکِ خوں سے تر بتر نہ ہو 
کوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا 
میں ایک ہجرِ بے مراد جھیلتا ہوں رات دن 
جو ایسے صبر کی طرح ہے جس کا پھل نہیں رہا 
تو اب مِرے تمام رنج مستقل رہیں گے کیا 
تو کیا تمہاری خامشی کا کوئی حل نہیں رہا 
کڑی مسافتوں نے کس کے پاؤں شل نہیں کیے 
کوئی دکھاؤ جو بچھڑ کے ہاتھ مَل نہیں رہا

جواد شیخ

No comments:

Post a Comment