Thursday, 3 November 2016

سب ہمارے لئے زنجیر لیے پھرتے ہیں

سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیں
ہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیں
کون تھا صید وفادار کہ اب تک صیاد
بال و پر اسکے تِرے تیر لیے پھرتے ہیں
تو جو آئے تو شب تار نہیں یاں ہر سو
مشعلیں نالۂ شب گیر لیے پھرتے ہیں
تیری صورت سے ملتی نہیں کسی کی صورت
ہم جہاں میں تِری تصویر لیے پھرتے ہیں
معتکف گرچہ بظاہر ہوں تصور میں مگر
کو بہ کو ساتھ یہ بے پیر لیے پھرتے ہیں
رنگ خوباں جہاں دیکھتے ہی زاد کیا 
آپ زور آنکھوں میں تصویر لیے پھرتے ہیں
جو ہے مرتا ہے بھلا کس کو عداوت ہے
آپ کیوں ہاتھ میں شمشیر لیے پھرتے ہیں
سرکشی شمع کی گر لگتی نہیں ان کو بری
لوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں
تا گنہگاری میں ہم کو کوئی مطعون نہ کرے 
ہاتھ میں نامۂ تقدیر لیے پھرتے ہیں
قصر تن کو یوں ہی بنوا نہ بگولے ناسخؔ
خوب ہی نقشۂ تعمیر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ

No comments:

Post a Comment