ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی
دیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی
دیکھی جاتی ہے محبت میں ہر اک جنبشِ دل
صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی
اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری
ایسا کچھ ہے بھی نہیں جس سے تجھے بہلاؤں
یہ اداسی بھی مسلسل نہیں دیکھی جاتی
میں نے اک عمر سے بٹوے میں سنبھالی ہوئی ہے
وہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی
اب میرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے
اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی
اک مقام ایسا بھی آتا ہے سفر میں جوادؔ
سامنے ہو بھی تو دلدل نہیں دیکھی جاتی
جواد شیخ
No comments:
Post a Comment