میں ہم نفساں جسم ہوں وہ جاں کی طرح تھا
میں درد ہوں وہ درد کے عنواں کی طرح تھا
تُو کون تھا کیا تھا کہ برس گزرے پہ اب بھی
محسوس یہ ہوتا ہے رگِ جاں کی طرح تھا
جس کے لیے کانٹا سا چبھا کرتا تھا دل میں
اک عمر الجھتا رہا دنیا کی ہوا سے
کیا میں بھی تِرے کاکلِ پیچاں کی طرح تھا
اے رات کے اندھیارے میں جاگے ہوئے لمحے
ڈھونڈو اسے وہ خوابِ پریشاں کی طرح تھا
لو حرفِ غزل بن کے نمایاں ہوا باقرؔ
کل رمز صفت معنئ پنہاں کی طرح تھا
سجاد باقر رضوی
No comments:
Post a Comment