مصیبت ہے مجھے ہر کام بے کاری بھی مشکل ہے
بہت دشوار خوش رہنا، عزاداری بھی مشکل ہے
میں کیسے چاہنے والوں کے دل کو ٹھیس پہنچاؤں
کہ مجھ سے تو حریفوں کی دلآزاری بھی مشکل ہے
محبت، وہ بھی دشمن دیش کی اس غیر مذہب سے
بہت آسان سمجھے تھے ہم اس کارِ محبت کو
محبت کی تو میری جان اداکاری بھی مشکل ہے
ہم ایسوں کو مسالک کے مسائل میں نہ الجھاؤ
ہم ایسوں سے تو مذہب کی رواداری بھی مشکل ہے
ہم اتنی دیر میں دشتِ جنوں سے ہو کے لوٹ آئے
خردمندوں سے اتنے میں تو تیاری بھی مشکل ہے
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment